بھونیشور25؍اگست (ایس او نیوز) آج بھی ہندوستان کے بعض مقامات کی صورتحال ایسی ہے کہ ملک کا سر شرم سے جھک جاتا ہے، بھلے ہی ملک کے وزیراعظم نریندر مودی ترقی کا دعویٰ کرتے ہوں مگر غریبی ایسی ہے کہ ایمبولنس کو دینے کی رقم نہ ہونے سے شوہر کو اپنی بیوی کی لاش اپنے کندھوں پر اُٹھا کر دس کلومیٹر تک پیدل چلنا پڑتا ہے جس سے وزیراعظم کے دعوے کی قلعی کھل جاتی ہے۔
واقعہ اُڑیسہ کے پسماندہ ضلع کالا ہانڈی کا ہے جہاں کے ایک قبائلی کو اپنی بیوی کی لاش کو اپنے کندھے پراُٹھا کر تقریبا 10 کلو میٹر تک پیدل چلنا پڑا. ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اس کے پاس اسپتال سے لاش کو گھر تک لے جانے کے لئے ایمبولینس یا دیگر سواری کو دینے کی رقم نہیں تھی۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ شخص اپنی بیوی کی لاش کو اکیلا اپنے کندھوں پر اُٹھا کر پیدل چل رہا تھا اور لوگ راستہ کنارے کھڑے ہوکر تماشہ دیکھ رہے تھے، کسی نے اس شخص کی مدد نہیں کی اور نہ ہی اُسے سہارا دیا۔ اس شخص کے ساتھ اس کی 12 سالہ بیٹی بھی تھی جو روتے ہوئے اپنے والد کے ساتھ چل رہی تھی۔
بتایا گیا ہے کہ دانا ماجھی نامی شخص کی بیوی42 سالہ امنگ دئی کی منگل کی رات کو بھواني پٹنا کے ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ٹی بی سے موت واقع ہو گئی تھی۔
ماجھی نے اسپتال حکام کو بتایا کہ وہ بے حد غریب ہے، لہٰذا لاش کو لے جانے کے لئےسواری کا انتظام کریں مگر کسی نے مدد نہیں کی،مجبور ہوکر اس نے اپنی بیوی کی لاش کو ایک کپڑے میں لپیٹا اور اسے کندھے پر لاد کر بھوانی پٹنا سے تقریبا 60 کلو میٹر دور رام پور بلاک کے میگھارا گاؤں میں واقع اپنے مکان کے لئے پیدل چلنا شروع کر دیا.
اس دوران کچھ لوگوں نے لاش کو کندھے پر اُٹھانے کی وڈیو بنائی ، جس کے بعد کچھ مقامی اخبارنویسوں کو واقعے کی بھنک مل گئی ، قریب دس کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرنے کے بعد اخبارنویس موقع پر پہنچ گئے انہوں نے ضلع کلکٹر کو فون کرکے واقعے کی اطلاع دی اورماجھی کے لئے ایمبولنس کا انتظام کرایا، جس کے بعد باقی 50 کلومیٹرکا سفر ایک ایمبولینس کے ذریعے پورا کیا گیا۔
بتایا جارہا ہے کہ اس قسم کی صورت حال سے نپٹنے کے لئے نوین پٹنائک حکومت نے فروری میں 'مهاپریانہ' منصوبہ بندی کی شروعات کی تھی جس کے تحت لاشوں کو سرکاری استپتال سے متعلقہ رشتہ داروں کے گھر تک پہنچانے کے لئے مفت نقل و حمل کی سہولت دی جاتی ہے۔ مگر ماجھی نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ بار بار کی درخواست کے بائوجود اُسے اسپتال حکام نے لاش کو گھر لے جانے کے لئے کسی طرح کا انتظام نہیں کیا اور اُسے بتایا گیا کہ اس اسپتال میں ایسا کوئی انتظام نہیں ہے۔
میڈیا والوں کے ذریعے خبر ملتے ہی کلھنڈی کے ڈپٹی کمشنر برونڈا ڈی نے فوری سی ڈی ایم او سے بات کی اور ایمبولنس کا انتظام کرایا، انہوں نے بتایا کہ ہریش چندرا یوجنا کے تحت حکومت کی طرف سے غریب لوگوں کی لاشوں کو گھر پہنچانے اور جنازہ کی آخری رسومات ادا کرنے کے لئے فری ٹرانسپورٹ سروس مہیا کی گئی ہے، انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں متعلقہ علاقہ کے تحصیلدار سے بھی بات چیت کی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ مہاپریانہ اسکیم کے تحت لاشوں کو لے جانے کے لئے 37 سرکاری اسپتالوں میں جملہ 40 سواریاں فراہم کی گئی ہیں۔ مگرتعجب کی بات ہے کہ اس میں سے ایک بھی سواری ماجھی کو دستیاب نہیں ہوسکی۔
ہندی وڈیونیوز کی ایک کلپ :
انگلش وڈیو نیوز: